کرنل باسمتی چاول کیسےبنے؟ کرنل صاحب کی تاریخ
1960 حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے کرنل مختار حسین نے باسمتی چاول کا نیا بیج دریافت کیا۔ اس بیچ کی کاشت سے باسمتی چاول کی جو فصل تیار ہوئی وہ معیار میں بہت اعلیٰ تھی اور اس چاول کی خوشبو بھی بہت اچھی تھی۔اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کرنل صاحب نے یہ ورائٹی دریافت کی یا باسمتی کی پہلے سے موجود ورائٹی سے پیوند کاری کر کے اس ورائٹی کی کاشت کی. بہر حال لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کرنل مختار کا باسمتی ہے۔ کچھ عرصے بعد یہ ’کرنل دا باسمتی‘ کہا جانے لگا اور پھر صرف کرنل باسمتی رہ گیا۔ اپنے معیار اور خوشبو کی وجہ سے یہ بہت مقبول ہو گیا اور پاکستان میں اس کی پیداوار بھی بڑھی۔
65 کی جنگ کے دوران جب شکر گڑھ کے کچھ علاقے انڈیا کے قبضے میں گئے تو بھارتی کرنل باسمتی چاول کی کھڑی فصل سے بیج لے گئے اور گورداسپور اور اس کے گردونواح کے علاقے میں کاشت شروع کر کے اس کی برآمد شروع کر دی۔
ویسے پاکستان اور انڈیا میں باسمتی چاول کی تاریخ لگ بھگ دو سو سال پرانی ہے۔ ہیر وارث شاہ میں باسمتی کی خوشبو اور اس کی خصوصیات کا ذکر ملتا ہے
’مشکی چاولاں دے بھرے آن کوٹھے سویں پتی تے جھونڑے چھڑی دے نی
باس متی مسافری بیگمی سن ہر چند تے زردیے دھری دے نی‘
ترجمہ
(خوشبو دار چاولوں سے کمرے بھر لیے سویں پتی اور جھونے صاف کر لیے، ان میں باسمتی، مسافری، بیگمی بھی تھے۔ ہرچند اور زردئیے بھی پڑے ہوئے تھے)
باسمتی چاول کی پیداوار کا تاریخی علاقہ چناب اور ستلج دریاؤں کا درمیانی حصہ ہے۔ پاکستان میں سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، گجرات، گوجرانوالہ،. منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد کے اضلاع باسمتی چاول کی پیداوار کے حوالے سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب انڈیا میں مشرقی پنجاب، ہریانہ، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں میں اس کی کاشت کی جاتی ہے.
