کیا انسان واقعی چاند پر جاچکا ہے؟
کیا انسان واقعی چاند پر جاچکا ہے؟؟؟
اعتراضات کے جوابات 👇
فلیٹ ارتھرز اور کچھ شدید مذہبی قسم کے لوگ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انسان چاند پر جاچکا ہے اور اسلئے انہوں نے اس پر کچھ سوال بھی اٹھاۓ ہیں جو کہ ایک پوسٹ کی صورت میں سوشل میڈیا پر کافی مشہور ہیں، اس میں ٹوٹل 19 سوالات کئے گئے ہیں جن کے جواب آج اس پوسٹ میں دیئے جائیں گے
10 سوالات کے جواب اس پوسٹ میں دوں گا اور بقیہ 9 سوالات کے جوابات اگلی پوسٹ میں دوں گا
◾سوال نمبر 1- 20 جولائی 1969ء کو انسان چاند پر گیا تھا ۔۔ اب اتنی زیادہ ٹیکنولوجی بڑھ گئی ہے امریکہ خود یا کوئی دوسرے دوبارہ جدید کیمروں اور جدید آلات کے ساتھ آج کے دور میں دوبارہ کیوں نہیں گئے ۔ یعنی اس وقت امریکہ کے ڈرامے کے بعد جب رشیا اور چائینا نے بھی مخالفت میں باری باری ڈرامے کیئے تو یہ تینوں اپنے ڈراموں کے بعد آج کے دور میں دوسرا ڈرامہ کیوں نہ بنا سکے ؟
⬅️جواب: یہ سچ ہے کہ آج سے 60 سال قبل امریکا اور روس کے مابین سرد جنگ چل رہی تھی،مگر یہ دعویٰ کرنا کہ سرد جنگ کی وجہ سے یہ سب "ڈرامہ" تھا، یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔ جیسے ہم دین کے لئے علماء کرام سے اور بیماری کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں اور ان کی رائے کو معتبر مانتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی سائنسی معاملات میں فلکیات دانوں اور سائنسی اداروں کی رائے کو حتمی حیثیت حاصل ہوتی ہےاور یہ حقیقت ہے کہ دُنیا کی تمام فلکیاتی اور سائنسی تحقیقاتی ایجنسیز مون لینڈنگ کو تسلیم کرچکی ہیں، ان کے ناقابل تردید شواہد انسان کے پاس موجود ہیں،جن میں سب سے اہم ثبوت وہ ریفلیکٹرز ہیں جو خلاء باز چاند کی سطح پر فٹ کرکے آئے، آج بھی بڑی فلکیاتی آبزرویٹریز ان پر طاقتور لیزر پھینک کر چاند کا زمین سے فاصلہ ناپتی رہتی ہیں!۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ آج کے دور میں انسان چاند پر کیوں نہیں گیا؟ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چاند پر جانا سیر سپاٹے کی طرح نہیں تھا، یہ انتہائی مہنگا مشن تھا، یکے بعد دیگرے چاند پر 6 انسانی مشنز بھیجنے کی وجہ سے امریکی معیشت تباہ ہوچکی تھی۔ اس کا اندازہ ایسے لگائیے کہ موجودہ دور میں اگر مون لینڈنگ مشنز سرانجام دئیے جائیں تو اس پر 150 ار ب ڈالر خرچ آئے گا، پاکستان صرف 4 ارب ڈالرز کے لئے آئی ایم ایف کے پاس بار بار جارہا ہے اور یہ چار ارب ڈالرز بھی ہمیں چار سال کے عرصے میں قسط وار ملیں گے۔ لہٰذا مون لینڈنگ انتہائی مہنگا مشن تھا، جس کے نتیجے میں ہمیں صرف چاند کے پتھر ہی مل رہے تھے، لہٰذا ناسا کا بجٹ محدود کردیا گیا اور امریکی حکومت اور عوام الناس کی جانب سے دباؤ بڑھنے کی وجہ سے دوبارہ انسانوں کو بھیجنے کی بجائے ربورٹک مشنز کو بھیج کر تحقیقاتی کام انجام دئیے گئے، ربورٹک مشن انسانی مشن کی نسبت بے حد سستے ہوتے ہیں، ربورٹک مشن کتنے سستے ہوتے ہیں اس کا اندازہ ایسے لگائیے کہ ایک سال قبل بھارت نے چاند کی جانب ربورٹک مشن محض 0.1 ارب ڈالر میں بھیجا تھا۔ لہٰذا یہ اعتراض بےمعنی ہے کہ ابھی چونکہ ہم چاند پر دوبارہ نہیں جارہے لہٰذا ماضی میں بھی نہیں گئے۔ لیکن ناقدین کے لئے خوشخبری ہے کہ مریخ پر آبادکاری کی وجہ سے اگلے کچھ سالوں میں انسان دوبارہ چاند پر جائے گا اور اب کی بار وہاں بیس کیمپس بنائے گا، جس وجہ سے امید ہے کہ ان کا یہ گلہ بھی ختم ہوجائے گا۔
◾سوال نمبر 2: کیوں چاند پر صرف امریکہ اور اس کے مخالفین ہی آپس کی دشمنی کی وجہ سے ڈٖراموں کا مقابلے کرتے رہے تھے؟ کیوں امریکہ حمایتی ملکوں میں سے کسی ایک کی بھی ہمت نہ ہوسکی چاند پر قدم رکھ کر امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ؟
⬅️جواب: ہم سوال نمبر 1 میں سمجھ چکے ہیں کہ یہ مشنز کتنے مہنگے تھے، چھوٹے ممالک بجٹ کی کمی کے باعث ان معاملات میں نہیں پڑے، لیکن چونکہ چاند پر ربورٹک مشن بھیجنا سستا کام ہےجس وجہ سے چھوٹے ممالک نے ربورٹک مشنز بھیج رکھے ہیں۔
◾سوال نمبر 3: جب چاند گاڑی چاند پر پہنچی تو چاند پر پہچنے کے بعد ایک عجیب قسم کی کار میں چاند کی زمین پر گھومے پھرے ۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی چاند کار چاند گاڑی سے برآمد کیسے ہوئی ؟ یعنی چھوٹی سی چاند گاڑی کے پیٹ میں اتنی گنجائش کہاں سے آئی اس کو اپنے اندر گھسانے کی ؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس چاند کار کو چاند گاڑی سے برآمد ہونے کی ویڈو کیوں نہیں بنائی گئی ؟ کیونکہ یہ بھی ایک بہت بڑا کمال اور معجزہ تھا ۔ ایک چھوٹی سی چاند گاڑی سے بڑی سی چاند کار کی برآمدگی بھی دنیا کو حیران کرنے کے لیے کافی تھی کیوں یہ والا ڈرامہ دکھلا کر مزید داد وصول کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ؟ اور پھر اس کے بعد ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ یہ چاند گاڑی کس لفٹ کی مدد سے اتاری گئی اور دوبارہ کس لفٹ کی مدد سے چڑھائی گئی ؟ اور آخر میں ایک اور سوال کیا چاند گاڑی چاند پر ہی چھوڑ آئے یا ساتھ واپس بھی لائے ؟؟ اور اگر ساتھ واپس بھی لائے تو اس واپسی کا لفٹ کے ذریعے اوپر چڑھنے کا ڈرامہ ہمیں کیوں نہیں دکھلایا گیا ؟
⬅️جواب: یہ سچ ہےکہ چاند پر بھیجے جانے والے 6 میں سے تین انسانی مشنز کے دوران چاند گاڑی کو بھی انسانوں کے ساتھ بھیجا گیا تھا،یہ گاڑی فولڈ ہوسکتی تھی، اور Lunar module کے نیچے ایک جگہ مخصوص تھی، جس میں یہ گاڑی فولڈ کرکے رکھی گئی تھی۔ چاند پر پہنچ کر lunar module کے اُس حصے سے یہ گاڑی نکالی گئی اور اسے unfold کرکے استعمال کیا گیا ۔چاند سے واپسی کے دوران چونکہ تھرسٹرز کا استعمال کرکے لونر ماڈیول کو اُڑانا تھا اور تھرسٹرز زیادہ بوجھ نہیں برداشت کرسکتے ، جس وجہ سے لونر ماڈیول کا وزن کم رکھنے کےلئے اِن چاند گاڑیوں کو وہیں چھوڑ دیا گیا، واپس نہیں لایا گیا۔اور یہ دعویٰ بھی کم علمی پر مبنی ہے کہ کسی ویڈیو میں اِس چاند گاڑی کو lunar module سے اتارتے نہیں دکھایا گیا، اپالو 15 مشن کے دوران چاند گاڑی کو lunar module سے نکالنے کی ویڈیو آپ مندرجہ ذیل لنک پر دیکھ سکتے ہیں:
https://www.youtube.com/watch?v=rHF5EcdLxQo&app=desktop
◾سوال نمبر 4: کہا جاتا ہے کہ نیل آرم سٹرونگ نے چاند پر سب سے پہلے قدم رکھا ۔۔ تو جناب وہ کون کون سے فوٹوگرافر پہلے ہی چاند پر اتر چکے تھے جو چاند گاڑی کو اترتے ہوئے اور خود نیل آرمسٹروم صاحب کو اترتے ہوئے ان کی مووی بنا رہے تھے؟؟اور ایک نہایت چھوٹی سی چاند گاڑی بغیر اندھن کے صرف اسپرنگ کی مدد سے دوبارہ کیسے چاند پر سے اُڑ کر دنیا تک آ گئی ؟؟ اور چاند پر سے واپسی پر دوبارہ جب وہ اڑکر واپس آرہی تھی تب چاند پر بیٹھ کر کون کون سے فوٹوگرافر کیمرے کو گھوماتے ہوئے چاند گاڑی کی تصویر بنا رہے تھے ؟؟اور پھر وہ فوٹو گرفر کون سی چاند گاڑی سے واپس آئے ؟؟واپس آئے بھی یا وہیں رہ گئے ؟؟
⬅️جواب: سوالات کے جوابات جاننے کےلئے سنجیدگی درکار ہوتی ہے جس کا اصول تو یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی سوال کیا جائے، بہرحال فلیٹ ارتھرز سے سنجیدگی کی توقع رکھنا بےکار ہے، جس وجہ سے سوالنمبر 5 میں اٹھائے گئے مختلف اعتراضات کے جوابات مندرجہ ذیل ہے:
۱: اس lunar module کے ساتھ ایک کیمرہ منسلک تھا، نیل آرمسٹرانگ نے لُونر ماڈیول سے نکلنے سے پہلے بٹن دبا کر وہ کیمرہ باہر نکالا، اس کے بعد لونر ماڈیول کا دروازہ کھول کر سیڑھیوں کے ذریعے نیچے اترے، لہٰذا وہاں کوئی فوٹو گرافر پہلے سے موجود نہیں تھا!
۲: ایک انتہائی چھوٹی سی خلائی گاڑی تھرسٹرز کی مدد سے چاند سے واپسی کے لئے اڑی، تھرسٹرز انتہائی چھوٹے راکٹ ہوتے ہیں، جن کا استعمال عموماً سیٹلائیٹس کی سمت دُرست کرنے کےلئے بھی خلاء میں کیا جاتا ہے اور یہ ہر لونر ماڈیول میں موجود تھے۔زمین کی شدید کشش ثقل کے باعث ہمیں زمین سے اڑنے کےلئے لانچنگ پیڈ چاہیے ہوتا ہے مگر چاند کی کشش ثقل کم ہے، وہاں ہوا بھی موجود نہیں جو resistance پیدا کرے جس وجہ سے تھرسٹرز کی مدد سے وہاں سے اُڑنا ممکن ہے۔
۳: جس دوران لُونر ماڈیول چاند کی سطح سے اُڑا اُس دوران اس کو واقعی فلمایا جارہا تھا اور یہ سچ ہے، مگر وہ کیمرہ کسی انسانوں کے ہاتھ میں نہیں تھابلکہ چاند کی سطح پر پڑا ہوا تھا اور زمین سے کنٹرول کیا جارہا تھا، وہ کیمرہ آج بھی چاند کی سطح پر موجود ہے۔
◾سوال نمبر 5: نیل آرم سٹرونگ صاحب کا ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے ۲۵ اگست ۲۰۱۲ کو ۔ امریکہ نے نیل آرم سٹرونگ صاحب کو ساری دنیا سے اور اپنے ملک کے میڈیا سے بھی کیوں چھپا کر رکھا؟؟
⬅️جواب: نیل آرمسٹرانگ کو دنیاسے ہرگز چھُپا کر نہیں رکھا گیا، نیل آرمسٹرانگ سمیت دیگر 12 انسان جنہوں نے چاند پر قدم رکھا ہے، ان کے انٹرویوز پوری دنیا کا میڈیا لیتا رہا ہے، نیل آرمسٹرانگ کے ساتھی Buzz Aldrin جو نیل آرمسٹرانگ کے ساتھ چاند پر گئے تھے وہ تاحال سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور مون لینڈنگ کے متعلق سوالات کے جوابات دیتے رہتے ہیں۔ لہٰذا یہ کم علمی پر مبنی دعویٰ ہے کہ ان سب کو کہیں چھُپا کر رکھ دیا گیا ہے۔
◾سوال نمبر 6: چاند پر کئی تصاویر ایسی لی گئیں جن کے دو دو سائے تھے ۔کیا چاند پر دو سورج نکلتے ہیں؟؟ یا دو طرف سے سٹوڈیو لائیٹیں ڈلیں گئیں تھیں ؟
⬅️جواب: مون لینڈنگ کی جتنی بھی تصاویر مستند ذرائع پر موجود ہیں سب پر ایک ہی سایہ بنتا دکھائی دیتا ہے، اگر ایسی کوئی تصویر موجود ہے جس میں دو سائے ہو تو لازمی شئیر کیجیے۔ اگر سٹوڈیو کی لائٹس سے بھی دو سائے بنیں تو پھر انہیں اتنا شارپ نہیں ہونا چاہیے بلکہ دونوں سائے مدھم ہونے چاہیے، مگر ایسی تصویر authentic source سے آپ کو نہیں مل پائے گی کیونکہ یہ اعتراض خام خیالی سے ہی گھڑا گیا ہے۔
◾سوال نمبر 7: چاند پر امریکہ نے جھنڈا گاڑا ۔۔ جو جھنڈا گاڑا گیا وہ لہرا رہا تھا ۔۔ چاند پر ہوا کہاں سے آئ ؟؟ جبکہ خلا میں ہوا نہیں چلتی ؟
⬅️جواب: جھنڈا ہرگز لہرا نہیں رہا تھا بلکہ اس جھنڈے کو سیدھا رکھنے کےلئے اس میں perpendicular سمت میں ایک اور ڈنڈا لگایا گیا تھا، جس وجہ سے جھنڈا سیدھا دکھائی دے رہا ہے، اس کے علاوہ یہ جھنڈا کپڑے کا نہیں بلکہ نائلون کا بنا ہوا تھا جس وجہ سے اس کو تہہ کرنے کی وجہ سے سِلوٹیں آگئی تھیں جسے لہرانے سے تشبیہ دی جارہی ہے۔
نیچے اس کی تصاویر دیکھ سکتے ہیں
◾سوال نمبر 8: چونکہ ناسا دنیا کے ساؤتھ پول کے بارے میں بہت سارے سوالات کے جواب نہیں دے پا رہا تھا اور خاص طور پر موسم کے بدلنے کے نظام کو تو اس نے سب کو بتایا کہ زمیں گول نہیں بلکی بیضوی ہے انڈے کی ماندد ۔۔۔لیکن حیرت ہے تمام فرضی تصاویر گول ہی پیش کرنا شروع کر دی گئی ہیں ۔۔ بقول ناسا کے کشش زمین صرف 100کلو میڑ کے بعد سے ختم ہو جاتی ہے اور خلا شروع ہوجاتی ہے ۔۔اگر زمین ایک طرف سے سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ بھی ایک طرف سے ہزار میل اور ساتھ ساتھ دوسری طرف سے 67000میل فی گھنٹے کی رفتار سے تو ایک سیدھا چلتا ہوا راکٹ کیسے اتنا بڑا جھٹکا کیسے سہہ سکتا ہے ؟؟یعنی 67000میل گھنٹے پر گھومتی ہوئی زمین کے مدار سے باہر نکلنا۔بلکل ایسے جیسے کسی کو انتہائی تیز چلتی ہوئی کار سے باہر پھینکا جائے تو کیا وہ بڑے ہی آرام سے آگے چلتا رہے گا ؟
⬅️جواب: گاڑی کی مثال کو زمین کی مثال سے جوڑنا اس خاطر غلط ہوگا کیونکہ گاڑی کی کشش ثقل نہیں ہوتی۔یاد رہے کہ خلاء اچانک سے نہیں شروع ہوجاتی بلکہ آہستہ آہستہ ہوا کا دباؤ کم ہونا شروع ہوتا ہے۔ راکٹ بدستور زمین کے چکر کاٹتا رہتا ہے اور آہستہ آہستہ زمین سے دور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔چونکہ کسی بھی شے پر زمین کی کشش ثقل 13 لاکھ کلومیٹر اونچائی تک حاوی رہتی ہے،اس دوران زمین کشش ثقل کی وجہ سے راکٹ کو بھی اپنے ساتھ لے کر سورج کے گرد چکر لگاتی رہتی ہے۔ لہٰذا راکٹ کو جھٹکا لگنے والی باتیں محض کم عقلی اور لاعلمی پر مبنی ہیں۔
◾سوال نمبر 9: 20 جولائی1969ء کو چاند پر جانے کی کہانی کی وجہ سے امریکہ سپر پاور بنا ۔امریکہ یا پوری دنیا کیوں ہر سال بیس 20 جولائی کو چاند ڈے کیوں نہیں مناتی ؟
⬅️جواب: امریکہ میں ہر سال 20 جولائی کو نیشنل مُون ڈے منایا جاتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ اعتراض کرنے والے اعتراض اٹھانے سے پہلے کم از کم گوگل کا ہی استعمال سیکھ لیں!
◾سوال نمبر 10: چاند خود بھی اپنے مدار پر گردش کر رہا ہے بقول ناسا کے اس کی اسپیڈ ۳۶۸۳ کلو میٹر فی گھنٹی ہے اور چاند اسی دوران ۱۲۹۰۰۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے ۔ ایک راکٹ کس طرح انتہائی تیز گھومتے ہوئے چاند کے اوربٹ(مدار)میں داخل ہوسکتا ہے؟؟اس راکٹ نے فضا سے چاند کے اوربٹ میں داخل ہونے کا جھٹکا کیسے برداشت کیا ؟
⬅️جواب: یہ سچ ہے کہ چاند زمین کے مدار میں گردش کررہا ہے، فلکیات میں hill sphere نام کی ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، چاند کا ہِل سفئیر 60 ہزار کلومیٹر ہے، جس کا مطلب ہے کہ جب کوئی شے چاند کی جانب سفر کرتے ہوئے چاند سے 60 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچتی ہے تو اُس کو چاند آہستہ آہستہ اپنی جانب کھینچنا شروع کردیتا ہے، اس علاقے کے بعد چاند کی کشش ثقل زیادہ ہوتی جاتی ہے، لہٰذا کوئی راکٹ ایک دم جھٹکے سے چاند کے مدار میں نہیں چلا جاتا بلکہ زمین کی کشش ثقل بتدریج کم ہوتی جاتی ہے اور چاند کی کشش ثقل بڑھنا شروع ہوجاتی ہے جس وجہ سے یہ سب step by step ہوتا ہے۔ کائنات کے قوانین ایک طریقے سے چل رہے ہیں، انہیں گاڑی کے جھٹکے سے تشبیہ دینا احمقانہ بات ہے۔

